کاروار8/مارچ (ایس او نیوز) کاروار پولیس نے بنی منٹپ میسورو کے رہنے والے پرشانت ٹی ایس (۵۳سال) کو ریاست کے مختلف مقامات پر سرکاری آ ّفیسر بن کر لوگوں کو دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے بیان کے مطابق کاروار کے ونود نائک نامی ایک شخص نے پرشانت کے خلاف شکایت درج کروائی تھی کہ اس نے اپنے آپ کو انکم ٹیکس آفیسر بتاکر ونود سے یہ وعدہ کیاتھا کہ وہ اسے ضلع شمالی کینرا کے لئے ایک سافٹ ڈرنکس کا ہول سیل ڈیلر بنادے گا۔جس کے لئے اس نے 15لاکھ روپے ڈپازٹ کے طور پراور ایک لاکھ روپے رجسٹریشن فیس کے لئے طلب کیے تھے۔ونود نے پرشانت کو ایک لاکھ روپے اد اکیے تھے اور وہ بقیہ پندرہ لاکھ روپے کا انتظام کرنے میں لگاہوا تھا۔
اسی دوران کوپّل کے جن لوگوں کو پرشانت نے اسی طرح دھوکہ دیا تھا یہ معلوم ہوا کہ پرشانت کاروار میں چھپا ہواہے اور وہ اس کی تلاش میں کاروار پہنچ گئے۔ اسی بیچ ان لوگوں کی ملاقات ونود سے بھی ہوگئی۔پرشانت کا پردہ فاش ہوتے ہی اس نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پرشانت کو جال بچھاکر گرفتار کرلیااور اس کے قبضے سے 6لاکھ روپے نقد، ایک سیل فون،1.3لاکھ روپے مالیت کی ایک سونے کی چین،اور ایک کار ضبط کرلی گئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ پرشانت نے پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن پولیس نے چابکدستی دکھاتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا۔
بتایاجاتا ہے کہ پرشانت اپنے آپ کو انکم ٹیکس آفیسر کے علاوہ اینٹی کرپشن بیورو اور لوک آیوکتہ کا آفیسر بتاکر لوگوں کو ٹھگا کرتا تھا۔ کاروار میں اس نے بہت سے کاروباریوں سے بڑی بڑی رقمیں وصول کی ہیں۔ کچھ لوگوں کواس نے کاروار اور دیگر مقامات پر پلاٹس دلانے کا جھوٹا وعدہ کرکے بھی رقم وصول کی ہے۔ اس کی بیوی بھی اس جعلسازی اور رقم وصولی کے دھندے میں ملوث بتائی جاتی ہے۔ پرشانت نے منگلورو، کوپل اور ہاویری میں درجنوں کو لوگوں مختلف افسران کے بھیس میں لوٹا ہے۔ پولیس اس معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔